Thursday, September 8, 2016

نگاہِ امتیاز نہیں ہے!

"دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور مولوی ابھی تک اسی میں لگے ہوئے ہیں کہ نماز میں ہاتھ ناف پر باندھنے چاہیئے یا سینے پر۔"

یہ الفاظ پڑھ کر مجھے لکھنے والے کی حماقت پر بہت ہنسی آئی۔
یہ الفاظ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے میں کسی وکیل کو کہوں کہ
"بھیا! ڈاکٹر کینسر کی دوا دریافت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور تم ابھی تک اسی میں پڑے ہوئے ہو کہ جج کو کونسی دلیل کب دینی ہے اور فریق مخالف کو کس طرح شکست دینی ہے۔"
وکیل کہے گا کہ میرے دوست! مجھے کینسر کی دوا سے کیا کام؟ میں تو وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہوں۔ مجھے تو یہی دیکھنا ہے کہ اپنے موکل کو کس طرح سزا سے بچانا ہے اور جج کو کونسی دلیل کب اور کس طرح دینی ہے اور قانون و آئین کے تناظر میں فریق مخالف کے وکیل کو کس طرح مات دینی ہے۔

اسی طرح میرے دوستو!!! مولویوں کا اوڑھنا بچھونا قران و سنت ہی ہے۔
ہاتھ سینے پر باندھے جائیں یا ناف پر۔ یہ بحث حدیث سے منسلک ہے اور اس بحث کو سلجھانا بھی مولویوں ہی کا کام ہے۔ چاند پر پہنچنے کا کام مولویوں کا نہیں ہے۔ ان سے آپ دینی مسائل تو پوچھ سکتے ہیں لیکن ان سے سائنس کا مسئلہ پوچھنا حماقت ہے۔
کسی پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیئے اگر نگاہ شفاف ہوگی تو اپنے علاوہ کسی پر تنقید کا وقت نہیں ملے گا۔

No comments:

Post a Comment