شیخ سعدی کہتے ہیں: متقین کا وصف شروع ہوتا ہے عقائد اور اعمال باطنہ سے۔ اس کے بعد اعمالِ ظاہرہ آتے ہیں۔ اور ’’تقوىٰ‘‘ ان سب اشیاء کو شامل ہے۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے: کہ رسولوں کی بتائی ہوئی باتوں کو آدمی دل سے مان لے اور وہ ایک ایسا ماننا ہو جو آدمی کے اعضاء و جوارح سے اپنا ظہور کرے۔ اصل چیز ہے ہی ایمان بالغیب۔ جہاں تک سامنے پڑی چیز کو ’’ماننے‘‘ کا تعلق ہے تو اس میں تو مسلم کافر سب برابر ہیں۔ اصل چیز ہے اُن حقیقتوں کو ماننا جو سامنے نہیں ہیں لیکن خدا اور رسولؐ نے ان کی طرف ہماری راہنمائی فرما دی ہے۔ یہ ہے فرق مسلم اور کافر میں۔ یعنی محض خدا اور رسولؐ کے بتانے سے مان لینا۔ خدا جو بتائے، اُس کا رسول جو بتائے، خواہ وہ دیکھنے میں آیا ہو یا نہ، خواہ وہ سمجھ میں آتا ہو یا نہ، ہماری ناقص عقلیں اس کا احاطہ کر پائی ہوں یا نہ... مومن وہ جو انہیں مان گیا اور ہدایت اور فلاح پا گیا۔ جبکہ کافر وہ جو یہ ضد لے کر بیٹھ گیا کہ سب باتیں پہلے اس کے احاطۂ علم میں آئیں۔
خود سوچو، کائنات کی اتنی بڑی بڑی حقیقتیں اتنی چھوٹی سی کھوپڑی میں بھلا کیسے سمائیں۔ البتہ زمین آسمان کو پیدا کرنے والا اور خود اِس کی کھوپڑی بنانے والا آپ اپنی زبان سے اِسے کچھ بتا دے وہ اِسے تسلیم نہیں! حالانکہ جو اِس کے دیکھنے کی چیزیں تھیں وہ اُس نے اِسے دکھا دیں۔ حق یہ ہے کہ وہ بھی اِس نے اپنے زورِبازو سے نہیں دیکھیں؛ اس مقصد کےلیے اِسے آنکھیں اُس مہربان نے ہی عطا کی تھیں؛ جنہیں یہ ’’اپنی چیز‘‘ سمجھتا ہے! البتہ جو چیزیں اِسے بتانے کی تھیں وہ اِسے بتا دینے پر ہی اکتفا کیا؛ اور انہیں ماننے کےلیے اِسے قلب و شعور دیا؛ ساتھ وہ قرائن جو شہادت دیں کہ یہ اُس علیم وحکیم ہی کا کلام ہے۔ متقین اور فلاح پانے والے پس وہ ہوئے جن کی آنکھیں بھی انہیں کام دیں اور دل بھی۔
Friday, December 2, 2016
عقل پرستی کا رد شیخ سعدی کے قلم سے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment