Friday, December 2, 2016

ابو بکر الباقلانی رحمہ اللہ کی حاضر جوابی

ابو بکر الباقلانی رحمہ اللہ اپنے زمانے کے بڑے عالم تھے اس لیے عراق کے گورنر نے روم کے بادشاہ کی جانب سے مناظرے کے چیلنج کے جواب میں 371 ہجری میں آپ کو قسطنطینیہ روانہ کیا۔
جب روم کے بادشاہ کو معلوم ہواکہ خلیفہ کی طرف سے مناظرے کے لیے بھیجے جانے والے عالم ابو بکر الباقلانی پہنچنے والے ہیں تو اپنے آس پاس موجودلوگوں کو حکم دیا کہ ان کہ دروازے سے داخل ہونے سے پہلے دروازے کے بالائی حصے کو نیچے کیا جائے تا کہ وہ جھک کر اندر آنے پرمجبور ہواورایسا لگے کہ بادشاہ کے سامنے جھک گئے۔
جب امام دروازے پر پہنچے تو سمجھ گئے کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے اس لیے منہ باہر کی طرف کر کے اور پشت بادشاہ کی طرف کر کے دروازے سے داخل ہوئے!
بادشاہ سمجھ گیا کہ ذہانت اس عالم پر ختم ہے!!
الباقلانی اندر آئے اور سلام کی بجائے صرف خیریت پوچھی کیونکہ کفار کو سلام جائز نہیں پھر بادشاہ کے پاس بیٹے سب سے بڑے راھب سے مخاطب ہو کر کہا: کیا حال ہے بیوی بچے کیسے ہیں؟
اس پر رومی بادشاہ لال پیلا ہو گیا اور کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارے راھب شادی نہیں کرتے تو ان کے بچے کہاں ہو ں گے؟؟!!
امام ابوبکر نے کہا: اللہ اکبر! اپنے راھبوں کو شادی اور بچے پیدا کرنے سے پاک قرار دیتے ہو اوراپنے رب پر الزام لگا تے ہو کہ مریم سے شادی کی اور عیسی پیدا ہوئے؟؟!!
بادشاہ نےغصے سے کہا: عائشہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟؟!!
ابوبکر نے کہا: جس طرح یہودیوں نے مریم پرتہمت لگائی تھی اسی طرح منافقین اور روافض نے عائشہ پر تہمت لگا ئی مگر دونوں پاکدامن ہیں، فرق اتنا ہے کہ عائشہ نے شادی کی مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی اور مریم نے شادی نہیں کی مگر اولاد ہو گئی اس لیے باطل تہمت کا خطرہ کس کو زیادہ ہے مگر اللہ کے نزدیک دونوں پاکدامن ہیں؟؟؟!!!
اس پر تو بادشاہ پاگل ہو گیا اور لال پیلا ہو کر کہا: تمہارے نبی نے کوئی جنگ کی ہے؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: کیا فرنٹ لائن میں لڑتا تھا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: فتح یاب ہو تا تھا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: کبھی شکست بھی کھا یا؟
ابو بکر: جی ہاں۔
بادشاہ: یہ کیسا نبی ہے جو شکست کھاتا ہے؟
ابو بکر: تمہارا معبود کیسا ہے جس کو پھانسی دی گئی؟؟؟!!!
یہاں کافر بے بس ہو گیا کوئی جواب نہ دے سکا۔
مصادر:ترتیب المدار/قاضی عیاض
قضاۃ الاندلس/ ابو الحسن البناہی
کذب المفتری/ ابن عساکر

No comments:

Post a Comment